نئی دہلی،18؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ہیلی کاپٹر کی اڑیسہ کے سنبل پور میں تلاشی لینے پر گزشتہ رات ایک آئی اے ایس افسر کو معطل کر دیا۔الیکشن کمیشن نے اپنے ہدایات میں کہا ہے کہ آئی اے ایس افسر محمد محسن نے ایس پی جی سیکورٹی یافتہ کے خلاف حکم کے مطابق کارروائی نہیں کی۔لیکن ایسا کوئی اصول نہیں ہے جو کہ الیکشن کے دوران تلاشی سے کسی کو اجازت دیتا ہو۔اسی پوائنٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے نشانہ لگایا ہے.۔1996 بیچ کے کرناٹک کیڈر کے محمد محسن پر ڈیوٹی کی خلاف ورزی اور نظر انداز کرنے کا الزام لگا ہے۔رپورٹیں کے مطابق اہلکار نے پی ایم نریندر مودی کے ہیلی کاپٹر کی اچانک تلاشی لی، جس کی وجہ سے انہیں 15 منٹ کی تاخیر ہوئی۔افسر نے کون سے قوانین کی خلاف ورزی کی، اس پر الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کہاکہ جیسا کہ حکم میں ذکر کیا گیا ہے۔ہدایات 10.4.2014 میں کہا گیا ہے کہ ایس پی جی سیکورٹی یافتہ لوگوں کو جانچ سے باہر رکھا جائے۔لیکن جب اس کی تحقیق کی گئی توایسی کوئی چیز نہیں ملی جس میں کوئی چھوٹ کا ذکر ہو۔کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے اسی کو لے کر نشانہ بنایا ہے۔کانگریس نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے، ایک افسر کو گاڑیوں کی جانچنے پر الیکشن کمیشن نے معطل کر دیا۔اس میں تشہیرکے لئے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کے قوانین کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس اصول کے تحت وزیر اعظم کی گاڑی کو تلاشی سے کوئی چھوٹ نہیں ہے۔مودی اپنے ہیلی کاپٹر میں کیا لے کر چلتے ہیں کہ وہ ہندوستان کو نہیں دکھانا چاہتے۔وہیں عام آدمی پارٹی نے ٹویٹ کرتے ہوئے نشانہ لگایا ہے کہ پی ایم مودی کے ہیلی کاپٹر کی تلاشی لینے والے افسر کی معطلی۔چوکیدار اپنے ہی محفوظ گھیرے میں رہتے ہیں۔کیا چوکیدار کچھ چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔